پاکستانی کھیلوں کی تاریخ صرف ٹرافیوں اور تمغوں کے اعداد و شمار کا نام نہیں، بلکہ یہ عزم، غریبی، بے حسی اور الم ناک انجام سے نبرد آزما کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ ہاشم خان کی دیرینہ عالمی حکمرانی سے لے کر نسیم حمید کی تاریخ ساز دوڑ اور ابرار حسین کے المناک انجام تک، یہ داستانیں جہاں قوم کا فخر ہیں وہیں ہمارے کھیلوں کے نظام پر ایک گہرا سوال بھی اٹھاتی ہیں۔

ایک وقت تھا جب کھیل کا میدان صرف اسکور بورڈ اور تمغوں کی تقسیم پر ختم نہیں ہوتا تھا، بلکہ وہاں عزم، قربانی اور انسانی المیوں کے ایسے نقوش ثبت ہوتے تھے جو کسی بھی ڈرامائی فلمی سکرپٹ سے کہیں زیادہ طاقتور اور اثر انگیز ہوتے تھے۔ پاکستان نے اپنے قیام کے بعد سے ایسے بے شمار ہیروز پیدا کیے جن کی فتوحات نے عالمی سطح پر ملک کا پرچم بلند کیا، لیکن ان کے کھیل کا آخری باب یا تو خاموش گمنامی میں ڈوب گیا یا پھر ریاستی نظام کی بے حسی کا شکار ہو گیا۔

پشاور کے ایک برطانوی افسران کے کلب سے بطور بال بوائے اپنے سفر کا آغاز کرنے والے ہاشم خان کی کہانی شاید اس حقیقت کا سب سے نمایاں ثبوت ہے۔ والد کی ناگہانی وفات کے بعد تعلیم چھوڑ کر اسی کلب میں ملازمت اختیار کرنے والے ہاشم خان کے پاس نہ کوئی باقاعدہ کوچ تھا اور نہ ہی کھیل کی جدید سہولیات میسر تھیں۔ لیکن جب ممبئی سے آنے والے ایک پیشہ ور کھلاڑی نے ان کی صلاحیتوں کا غلط اندازہ لگایا، تو ہاشم خان نے اسے حیران کن شکست دے کر سب کو دنگ کر دیا۔ تقسیمِ ہند سے قبل ممبئی میں مسلسل تین آل انڈیا ٹائٹل جیتنے کے بعد جب 1947 میں پاکستان بنا، تو وہ 37 برس کے ہو چکے تھے۔

عام طور پر اس عمر میں کھلاڑی کھیل کو خیرباد کہہ دیتے ہیں، لیکن ہاشم خان کا اصل عالمی سفر یہاں سے شروع ہوا۔ انہوں نے برٹش اوپن میں مصر کے محمود الکریم کو پچھاڑ کر اپنے پہلے ٹائٹل کا آغاز کیا اور 44 برس کی عمر تک مزید چھ بار یہ عالمی تاج اپنے نام کیا۔ بعد میں امریکا منتقل ہونے کے بعد بھی کینیڈین اوپن اور یو ایس اوپن جیت کر انہوں نے اپنی عمر کی پانچویں دہائی میں بھی عالمی اسکواش پر اپنی حکمرانی قائم رکھی۔ امریکی شہر ڈینور میں ان کی اس لازوال کامیابی کا اعتراف ہر سال یکم جولائی کو "ہاشم خان ڈے" منا کر کیا جاتا ہے۔

اسی دور میں دیسی اکھاڑوں کی دنیا میں بھولو پہلوان کا خاندان گاما پہلوان کی عظمت کو آگے بڑھا رہا تھا۔ 1927 میں امرتسر میں پیدا ہونے والے منظور احمد عرف بھولو پہلوان نے 1949 میں یونس پہلوان کو شکست دے کر 'رستمِ پاکستان' کا اعزاز حاصل کیا۔ 1963 میں گاما پہلوان کا وہ چاندی کا تاریخی گرز سنبھالنے کے بعد، جو انہیں شاہ ایڈورڈ چہارم نے دیا تھا، 1967 میں بھولو پہلوان کو 'رستمِ زمان' یعنی عالمی چیمپئن کا لقب ملا۔ برطانیہ کے دوروں کے دوران جب بین الاقوامی پہلوانوں کو بھولو سے لڑنے سے پہلے ان کے بھائیوں کا سامنا کرنا پڑتا، تو روایتی پہلوانی میں پاکستان کا لوہا تسلیم کیا جاتا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ روایتی کشتی کا زوال اس حد تک بڑھا کہ جن اکھاڑوں سے کبھی گرد اڑتی تھی، وہ خاموشی کی علامت بن گئے اور یہ عظیم روایات اسی مٹی میں دفن ہو گئیں۔

تمغوں کا عروج اور الم ناک اختتام: باکسنگ کے دو 'شاہ'

پاکستانی باکسنگ کی تاریخ دو ایسے ناموں کے بغیر نامکمل ہے جنہوں نے عالمی رِنگ میں پاکستان کا نام روشن کیا، لیکن ان کا انجام ملک میں اسپورٹس سیکیورٹی اور کھلاڑیوں کی دیکھ بھال کے سنگین خلا کو بے نقاب کرتا ہے۔

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ابرار حسین نے 1980ء کی دہائی میں بین الاقوامی سطح پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ 1983 میں ایشین باکسنگ چیمپئن شپ کا برونز میڈل اور 1984 کے لاس اینجلس اولمپکس میں شرکت کے بعد، 1985 کے ساؤتھ ایشین گیمز میں انہوں نے بھارتی باکسر منجیت پال سنگھ کو ہرا کر 71 کلوگرام کیٹیگری میں سونے کا تمغہ جیتا۔ 1988 کے اولمپکس، 1989 کے ساؤتھ ایشین گیمز اور 1990 کے بیجنگ ایشین گیمز میں طلائی تمغہ ان کے شاندار کیریئر کا عروج تھا۔ تاہم، ریٹائرمنٹ کے بعد جب وہ نوجوانوں کی تربیت سے وابستہ تھے، تو 16 جون 2011 کو ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ کے باہر پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے انہیں ٹارگٹ کلنگ میں قتل کر دیا گیا۔

دوسری جانب کراچی کے علاقے لیاری سے تعلق رکھنے والے حسین شاہ نے 1988 کے سیول اولمپکس میں وہ تاریخ رقم کی جو پاکستان کی اسپورٹس ہسٹری کا سنہری باب ہے۔ ساؤتھ ایشین گیمز میں 1984 سے 1991 تک مسلسل سونے کے تمغے جیتنے والے حسین شاہ نے سیول اولمپکس میں میکسیکو، کانگو اور ہنگری کے باکسرز کو شکست دے کر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔ اگرچہ وہ کینیڈا کے ایجرٹن مارکس سے ہار گئے، لیکن مڈل ویٹ کیٹیگری میں انہوں نے کانسی کا تمغہ جیتا، جو 1960 کے روم اولمپکس میں پہلوان محمد بشیر کے بعد پاکستان کا صرف دوسرا انفرادی اولمپک تمغہ تھا۔ اس تاریخی کامیابی کے باوجود پاکستان میں مناسب سپورٹ نہ ملنے کے باعث حسین شاہ کو 1992 میں پیشہ ورانہ باکسنگ کا رخ کرنا پڑا اور وہ جاپان منتقل ہو کر وہاں کے کھلاڑیوں کو تربیت دینے پر مجبور ہوئے۔

کورنگی کی ننگے پاؤں اسپرنٹر اور ہاکی کی کھوئی ہوئی میراث

پاکستان میں خواتین کے کھیلوں کی جدوجہد کی سب سے جذباتی مثال نسیم حمید کی ہے۔ کراچی کے علاقے کورنگی میں انتہائی محدود وسائل اور مناسب جوتوں کے بغیر دوڑنے والی اس لڑکی نے 7 فروری 2010 کو ڈھاکا میں ساؤتھ ایشین گیمز کی 100 میٹر دوڑ میں طلائی تمغہ جیت کر تاریخ رقم کر دی۔ ساؤتھ ایشین گیمز کی 26 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی پاکستانی خاتون نے 100 میٹر کا طلائی تمغہ جیت کر 'جنوب ایشیا کی تیز ترین خاتون' بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

کراچی ایئرپورٹ پر نسیم کا بے مثال استقبال ہوا اور وہ راتوں رات قومی علامت بن گئیں، لیکن مناسب طبی علاج، انجری کے مسائل اور سرکاری تعاون میں کمی کی وجہ سے ان کا ریسنگ کیریئر جلدی ختم ہو گیا۔ نسیم نے اس کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور اپنے علاقے میں غریب طبقے کے نوجوانوں کی تربیت کے لیے اکیڈمی قائم کر کے کوچنگ کا سفر اختیار کیا۔

اسی طرح قومی کھیل ہاکی کی تاریخ 1948 سے 1994 تک ایسے شاندار کھلاڑیوں اور فتوحات سے بھری پڑی ہے جہاں گرین شرٹس کا دنیا بھر کے میدانوں میں طوطی بولتا تھا۔ تاہم، آج ہاکی جس ابتر حالت میں پہنچ چکی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم اپنی سنہری میراث کو محفوظ رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔

ہاشم خان کا عزم، بھولو کی خاندانی روایت، ابرار حسین کا المناک قتل، حسین شاہ کی دیارِ غیر میں کوچنگ اور نسیم حمید کی ننگے پاؤں پیش قدمی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ پاکستان میں کھلاڑی اپنے بل بوتے پر فتح حاصل کرتے ہیں، لیکن ہمارا اسپورٹس سسٹم انہیں وہ تحفظ، روزگار اور دوام فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے جس کے وہ مستحق ہیں۔