مصنوعی ذہانت اب محض دنیا کے ترقی یافتہ ممالک یا لیبارٹریوں تک محدود ٹیکنالوجی نہیں رہی بلکہ یہ عالمی معیشت، زراعت، صحت اور انتظامی ڈھانچوں کو چلانے کا بنیادی ذریعہ بن چکی ہے۔ اس عالمی تبدیلی کے تناظر میں پاکستان کی 'قومی اے آئی پالیسی 2025' ملک کے لیے ایک ایسا باقاعدہ فریم ورک فراہم کرتی ہے جس کا مقصد محض تکنیکی جدت حاصل کرنا نہیں بلکہ اس کے سماجی، معاشی اور اخلاقی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک واضح ڈیجیٹل سمت متعین کرنا ہے۔ اس پالیسی کی تیاری میں وفاقی اداروں کے ساتھ ساتھ نجی شعبے، اعلیٰ تعلیمی اداروں، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
پالیسی کے چھ بنیادی ستون اور معاشی اہداف
قومی پالیسی کی ساخت کو چھ اہم اور مربوط شعبوں کے گرد استوار کیا گیا ہے تاکہ ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ ایک منظم منصوبے کے تحت ہو سکے۔ اس پالیسی کا پہلا بنیادی ستون تحقیق اور جدت کو فروغ دینا ہے، جس کا مقصد ایسا سازگار ماحولیاتی نظام قائم کرنا ہے جہاں نجی سرمایہ کاری، نئے اسٹارٹ اپس اور تحقیقی منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ دوسرا ستون انسانی وسائل کی ترقی سے متعلق ہے، جس کے تحت عام شہریوں کے لیے بڑے پیمانے پر ہنرمندی کے پروگرام اور سرکاری ملازمین کی جدید تربیت کا انتظام شامل ہے تاکہ انتظامی امور میں اے آئی کے استعمال کی مقامی صلاحیت پیدا کی جا سکے۔
تیسرے ستون میں محفوظ اور ذمہ دارانہ اے آئی کے استعمال پر زور دیا گیا ہے، جس کے تحت واضح اخلاقی اصول، ڈیٹا کا تحفظ اور شفاف حکمرانی کا نظام تشکیل دیا جائے گا۔ چوتھی ترجیح مختلف بنیادی شعبوں میں اس ٹیکنالوجی کے عملی نفاذ سے جڑی ہوئی ہے۔ زراعت میں موسمی پیشگوئی اور فصلوں کے تجزیے، تعلیم میں انفرادی تدریسی ضروریات، صحت میں بیماریوں کی بروقت تشخیص، توانائی کے شعبے میں نظم و ضبط اور حکومت کے اندر فیصلہ سازی کو بہتر بنانے کا ہدف اس پالیسی کا حصہ ہے۔
پانچواں ستون ملکی ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی طاقت سے متعلق ہے، جس میں ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ، کلاؤڈ انفرااسٹرکچر، قومی ڈیٹا ذخائر اور مقامی اے آئی ماڈلز کی تیاری شامل ہے۔ چھٹا ستون عالمی سطح پر تعاون کا احاطہ کرتا ہے، جس کے تحت بین الاقوامی اداروں اور مختلف ممالک کے ساتھ مشترکہ تحقیق، غیر ملکی سرمایہ کاری اور 'اے آئی سفارت کاری' (AI Diplomacy) کے ذریعے عالمی معیارات سے ہم آہنگی پیدا کی جائے گی۔ ان چھ بنیادی ستونوں پر عمل درآمد کے ذریعے حکومت نے اندازہ لگایا ہے کہ 2030 تک ملکی جی ڈی پی میں 12 فیصد تک اضافہ ممکن ہو سکے گا اور 35 لاکھ سے زائد نئی ملازمتیں پیدا کی جا سکیں گی۔
شمولیت، اخلاقیات اور ڈیجیٹل مساوات
پاکستان جیسے ملک میں ٹیکنالوجی کی پالیسی کا ایک اہم ترین پہلو یہ ہے کہ اس کا فائدہ تمام طبقات تک یکساں پہنچے۔ اسی ضرورت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے پالیسی میں خواتین، معذور افراد اور پس ماندہ یا کم سہولیات کی حامل آبادیوں کے لیے خصوصی وظائف اور تربیتی مواقع فراہم کرنے کی حکمتِ عملی شامل کی گئی ہے۔ اس وقت ملک کے شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان تکنیکی رسائی اور مہارتوں کا واضح تفاوت موجود ہے، لہٰذا اگر ان محروم طبقات کو بنیادی دھارے میں نہ لایا گیا تو یہ ٹیکنالوجی موجودہ معاشی اور سماجی خلیج کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔
ٹیکنالوجی کی تیز رفتار پیش رفت کے ساتھ رازداری کے مسائل، الگورتھم کے اندر تعصب اور شفافیت جیسے چیلنجز بھی سامنے آتے ہیں۔ پالیسی دستاویز میں ان مسائل سے نمٹنے کے لیے 'ریگولیٹری سینڈ باکسز' اور سرکاری شعبے میں استعمال ہونے والے اے آئی ٹولز کے لیے ایک قومی رجسٹری کے قیام کا حکم تجویز کیا گیا ہے تاکہ جدید ماڈلز کا جائزہ شفاف اور جواب دہ انداز میں لیا جا سکے۔
کاغذی وژن سے عملی نفاذ تک کا سفر
کسی بھی قومی پالیسی کا منظور ہونا محض ایک شروعات ہوتی ہے، جبکہ اصل چیلنج اس مسودے کو عملی پروگراموں، بجٹ کی بروقت تخصیص اور اداروں کی استعداد کار میں تبدیل کرنا ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج درآمد شدہ ٹیکنالوجی کا محض صارف بننے کے بجائے اسے مقامی ضروریات کے مطابق تیار کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے جامعات اور صنعت کے درمیان مضبوط روابط اور مقامی اے آئی ہبز کا قیام بنیادی شرط ہے۔
قومی اے آئی پالیسی 2025 نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ پاکستان عالمی تکنیکی دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔ تاھم، 2030 تک کے معاشی اہداف اور لاکھوں ملازمتوں کا حصول صرف اسی صورت ممکن ہو سکے گا جب ریاست اس حکمتِ عملی پر تسلسل، شفافیت اور مستقل مالی و انتظامی سرپرستی کے ساتھ عمل درآمد یقینی بنائے۔





تبصرے