پاکستان
this is test category for pakistan
مزید خبریں

1977ء کا فوجی مارشل لا: جنرل ضیاء کا نظام اور ساڑھے چار دہائیوں سے قائم اس کے اثرات
5 جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء الحق کے فوجی تاخت نے پاکستان کو نہ صرف اس کے تیسرے اور طویل ترین مارشل لا کے سپرد کیا بلکہ ملک کی آئینی و سیاسی سمت کو بھی مستقل طور پر بدل دیا۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح کے جمہوری تصور کے برعکس، جنرل ضیاء نے ریاست کو ایک ایسے مذہبی اور آئینی ڈھانچے میں ڈھال دیا جو تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی ملکی نظام پر نافذ ہے۔ اس تبدیلی کی جڑیں قیامِ پاکستان کے ابتدائی سالوں میں جمہوری اور مذہبی گروہوں کے درمیان جاری کشمکش سے ملتی ہیں۔ اس تجزیے میں 1940ء کی قراردادِ لاہور سے لے کر قیامِ پاکستان کے بعد کے واقعات، ذوالفقار علی بھٹو کے اقدامات اور ضیاء الحق کے نو سالہ دورِ حکومت میں کی جانے والی ان آئینی و سماجی تبدیلیوں کا احاطہ کیا گیا ہے جنہوں نے آج کے پاکستان کی شکل تعين کی ہے۔

تحریکِ انصاف کا حالیہ بحران: صرف ریاستی دباؤ یا اندرونی ساختار کی ناکامی؟
پاکستان تحریکِ انصاف ایک وقت میں انصاف اور قانون کی بالادستی کا نعرہ لگا کر عوام کی بڑی تعداد، بالخصوص نوجوانوں کی امیدوں کا مرکز بنی۔ تاہم آج یہ جماعت قیادت کے فقدان اور تنظیمی انتشار کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ اس صورتِ حال کی ایک بڑی وجہ ریاستی دباؤ کو قرار دیا جاتا ہے، مگر اس کا گہرا تعلق جماعت کے اندرونی انتظامی فریم ورک کی غیر موجودگی سے بھی ہے۔ عمران خان کی شخصیت پر مبنی سیاست نے ادارے قائم کرنے، اندرونی جمہوریت کو فروغ دینے اور نظریاتی کیڈر کی تربیت پر توجہ نہیں دی۔ یہ تحریر تحریکِ انصاف کے موجودہ بحران، دوسری صف کی کمزور قیادت اور پاکستانی سیاست کے مجموعی خاندانی و شخصی کلچر کا تنقیدی جائزہ لیتی ہے۔

2007ء کی وکلاء تحریک اور آج کا پاکستان: آئینی بحران کے باوجود عوامی تحرک غائب کیوں؟
2007ء سے 2009ء کے دوران پاکستان میں چلنے والی وکلاء تحریک نے ناصرف ججوں کی بحالی بلکہ آمریت کے خاتمے اور جمہوری نظام کی واپسی میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ تاہم آج آئینی تحفظات اور عدلیہ کی آزادی پر بحث کے باوجود ماضی جیسا کوئی عوامی تحرک نظر نہیں آتا۔ میڈیا پر پابندیوں، بار ایسوسی ایشنز کی سیاسی دھڑے بندیوں اور عدالتی نظام میں عوامی اصلاحات کی عدم موجودگی کے باعث عام شہریوں کا اعتماد مجروح ہوا ہے۔ اس تجزیے میں ان اسباب کا احاطہ کیا گیا ہے جن کی وجہ سے آج اجتماعی آئینی مزاحمت غائب ہے اور سیاسی قیادت پر کیا ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں۔

1973ء کے آئین کی ’بانی مائیں‘: پاکستان کی دستوری تاریخ کا خاموش مگر درخشاں باب
پاکستان کا 1973ء کا آئین جمہوری طور پر منتخب پارلیمان سے منظور ہونے والی پہلی متفقہ دستوری دستاویز تھا، مگر اس کی تدوین میں خواتین کے اہم کردار کو تاریخی طور پر شاذ و نادر ہی اجاگر کیا جاتا ہے۔ اس تاریخی دستاویز پر دستخط کرنے والے منتخب نمائندوں میں تین خواتین—بیگم نسیم جہاں، ڈاکٹر اشرف عباسی اور جینیفر جہانزیب موسیٰ قاضی شامل تھیں۔ انہوں نے ایوان میں کم تعداد کے باوجود آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت صنف کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی ممانعت، قومی اسمبلی میں خواتین کے لیے مخصوص نشستیں، اسلامی نظریاتی کونسل میں نمائندگی اور ملک میں بلدیاتی نظام کی بنیاد رکھوائی۔

پاکستان میں خواتین کے حقوق کی قانون سازی: دستاویزات میں پیش رفت اور زمینی حقائق کی خلیج
پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران خواتین کے خلاف تشدد، گھریلو بدسلوکی اور کام کے مقام پر ہراسانی کے خلاف متعدد تحریری قوانین منظور کیے گئے۔ 1980ء کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت کے سخت قوانین کے خلاف اٹھنے والی ویمنز ایکشن فورم، عورت فاؤنڈیشن اور ایچ آر سی پی جیسی تنظیمی تحریکوں نے اس قانون سازی کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں مشرف دور میں بحال ہونے والی مخصوص نشستوں اور پھر منتخب حکومتوں نے اہم اصلاحاتی قوانین منظور کیے۔ اس کے باوجود، پولیس اور عدالتی نظام میں موجود پتریارکل رویوں، بدعنوانی اور ناقص انتظامی ڈھانچے کے باعث ان قوانین کے ثمرات عام خواتین تک پہنچنے میں شدید رکاوٹیں حائل ہیں۔

موروثی سیاست اور ’نیپو بیبیز‘: پاکستان سمیت دنیا بھر میں سیاسی خاندانوں کا تسلط اور جمہوریت کے لیے درپیش چیلنجز
پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں سیاسی اقتدار کی باگ ڈور روایتی خاندانوں اور موروثی قیادت کے ہاتھوں میں چلی آ رہی ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا، لاطینی امریکہ اور مغرب تک پھیلے اس رجحان میں سابق حکمرانوں کی اولاد، شریکِ حیات یا رشتہ دار اپنے خاندانی نام کی بدولت اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔ اگرچہ تحریکِ انصاف کے ابھار سے پاکستان میں اس روایت پر دباؤ پڑا، مگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی صورت میں موروثی سیاست اب بھی مضبوط ہے۔ ماہرین کے مطابق موروثی سیاست نہ صرف میرٹ اور جمہوری اداروں کو کمزور کرتی ہے بلکہ معاشی اصلاحات اور ابھرتے ہوئے شہری وسطی طبقے کی توقعات کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ ہے۔
مزید تازہ خبریں
پاکستان میں جمہوریت اور آمریت کا تصادم: مارشل لا کی تاریخ اور عوام کا مزاحمتی سفرپاکستان کی 75 سالہ سیاسی تاریخ غیر آئینی اقدامات، فوجی تسلط اور جمہوری اداروں کے درمیان ایک مسلسل کشمکش پر محیط ہے۔ ایوب خان کے 'ترقیاتی عشرے' سے لے کر جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار تک، غیر منتخب اداروں نے اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے عدالتوں اور کٹھ پتلی سیاست دانوں کو استعمال کیا۔ اس کے باوجود، عوام کی سیاسی بیداری اور جمہوری قوتوں کی مزاحمت نے ہر دور میں آمریت کا مقابلہ کیا۔ 1970 کے انتخابات، بیگم نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو کی جدوجہد، اور ایم آر ڈی کی تحریک اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کی جڑیں گہری ہیں اور عوام ہمیشہ منتخب نمائندگی کو ہی فوقیت دیتے ہیں۔
18 ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے 16 سال: مالیاتی خودمختاری اور بلدیاتی نظام پر عالمی بینک کی اہم رپورٹپاکستان میں 18 ویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو 16 سال گزرنے کے باوجود مالیاتی خودمختاری اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا فریم ورک مسائل کا شکار ہے۔ عالمی بینک کی نئی رپورٹ کے مطابق آئینی ڈھانچہ تو مضبوط ہے لیکن اس پر عمل درآمد انتہائی ناقص رہا ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان عدم ہماہنگی، صوبائی سطح پر ذاتی محاصل جمع نہ کرنے کی روش اور بلدیاتی اداروں کی مسلسل کمزوری کے باعث عام شہریوں کو بنیادی سہولیات میسر نہیں آ سکیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبوں کا 80 فیصد سے زائد بجٹ محض انتظامی و جاری اخراجات پر صرف ہو رہا ہے۔
پاک افغان تجارت میں بڑا بریک ڈاون: 53 فیصد کمی اور سرحد پار معیشت کا خاموش بحراناسلام آباد میں بیٹھ کر جب پاک افغان تجارت کی اعداد و شمار کی روشنی میں جائزہ لیا جاتا ہے تو یہ محض چند ارب ڈالر کا اتار چڑھاؤ دکھائی دیتا ہے، لیکن طورخم، چمن اور لنڈی کوتل کے شہریوں کے لیے یہ نفع نقصان نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے ابتدائی چھ ماہ میں دوطرفہ تجارت 53 فیصد کم ہو کر 594 ملین ڈالر رہ گئی ہے، جبکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا حجم تاریخی سطح تک گر چکا ہے۔ اس تالہ بندی کے اثرات صرف سرحد تک محدود نہیں رہے بلکہ پنجاب کے کاشتکاروں سے لے کر چھوٹے کاروباریوں تک کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کر چکے ہیں۔
بلوچستان میں منفی درجہ حرارت اور 'لاندھی' کا سحر: شدید سردی میں روایتی خشک گوشت کی طلب میں ریکارڈ اضافہبلوچستان میں رواں موسمِ سرما کے دوران پڑنے والی غیر معمولی اور شدید سردی نے جہاں عام زندگی کو مفلوج کیا، وہیں پشتون ثقافت کی سوغات ’لاندھی‘ کی مقبولیت کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ ضلع پشین کے یارو بازار میں ان دنوں خشک گوشت کے خریداروں کا تانتھا بندھا ہے، جہاں مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ سندھ اور پنجاب سے آئے لوگ بھی اس روایتی اور مقوی غذا کو حاصل کرنے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ کوئٹہ اور ملحقہ علاقوں میں پارہ مائنس 7.5 ڈگری تک گرنے سے لاندھی کی طلب میں دس گنا اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا کی بدولت اب لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں بھی اس کا کاروبار چمک اٹھا ہے۔
پاکستان افغان سرحد پر لگی باڑ: کٹھن راستوں اور بندشوں میں پسے کوچی خانہ بدوشوں کی داستانپاکستان اور افغانستان کے درمیان صدیوں سے موسموں کی تبدیلی کے ساتھ ہجرت کرنے والے لاکھوں کوچی خانہ بدوش سرحدی باڑ اور انتظامی سخت یوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ سرحد پار کرنے کی قانونی اجازت نہ ملنے کے باعث انہیں انجان اور انتہائی دشوار گزار پہاڑی راستوں سے گزرنا پڑ رہا ہے، جس سے ان کے مال مویشی ہلاک ہو رہے ہیں اور سفر کی تکالیف میں اضافہ ہو چکا ہے۔ پاکستانی شناختی کارڈز رکھنے کے باوجود اپنے آباؤ اجداد کی چراگاہوں اور سرمائی ٹھکانوں تک پہنچنے میں ناکامی نے اس قدیم قبائلی زندگی اور ان کے ذریعہ معاش کو گہرے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
بلوچستان کا قدیم کاریز نظام: روایتی آبی حکمت، تباہی کا خدشہ اور بحالی کا امکانبلوچستان میں پانی کا روایتی زیرِ زمین نظام ’کاریز‘ محض آبپاشی کا ذریعہ نہیں بلکہ صحرائی زندگی، مقامی ثقافت اور اجتماعی بھائی چارے کی بنیاد رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور بے دریغ ٹیوب ویلوں کے استعمال نے اس تاریخی نظام کو خشک کر کے دیہی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم، آذربائیجان کے علاقے نخچیوان میں کیمونسٹ دور کے بند کاریزوں کی کامياب بحالی نے ثابت کیا ہے کہ اگر درست حکمتِ عملی اور مقامی آبادی کو شامل کیا جائے تو یہ قدیم نظام دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا اور افغانستان کے جغرافیائی و معاشی پس منظر میں کاریز کی تحفظ کی جدوجہد پر ایک تحقیقی نظر۔
باری اسٹوڈیوز: لاہور کے فلمی عروج کی ایک بکھرتی ہوئی یادباری اسٹوڈیوز کبھی لاہور کی فلمی صنعت کا ایک اہم مرکز تھا، جہاں فلمیں بنتی تھیں اور پردے کے پیچھے کام کرنے والے سیکڑوں افراد کا روزگار وابستہ تھا۔ آج اس کی خستہ حال عمارتیں اور وہاں موجود چند پرانے کارکن پاکستانی سنیما کے عروج، زوال اور اس صنعت سے جڑے بھلا دیے گئے کرداروں کی کہانیاں سناتے ہیں۔
عالمی درجوں میں 35 پاکستانی جامعات: موضوعاتی سطح پر بہتری، مگر سرفہرست اداروں میں جگہ بنانا اب بھی بڑا چیلنجکیو ایس (QS) ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ باائے سبجیکٹ 2026 میں پاکستان کی 35 جامعات شامل ہوئی ہیں، جن میں 31 سرکاری اور چار نجی ادارے شامل ہیں۔ زرعی تعلیم میں یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد ٹاپ 200 اور بزنس کے شعبے میں لمیز (LUMS) 101 سے 150 کے بینڈ میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی، جبکہ نسٹ، قائد اعظم یونیورسٹی اور کامسیٹس نے تکنیکی و قدرتی علوم میں بہتر کارکردگی دکھائی۔ مجموعی طور پر پاکستانی اداروں کے 180 مضامین اس درجہ بندی کا حصہ بنے۔ تاہم زیادہ تر جامعات کی پوزیشن 201 سے 400 کے بینڈ میں رہنے سے واضح ہوتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر تحقیق، تجارتی روابط اور معیاری تدریس کو وسعت دینے کے لیے ابھی مزید اقدامات درکار ہیں۔
جامعات کی تعداد اور گریجویٹس کی فوج: پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا حقیقی بحران کیا ہے؟سال 2002 میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے قیام کے بعد پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں غیر معمولی توسیع دیکھی گئی، جہاں جامعات کی تعداد 60 سے بڑھ کر 250 سے تجاوز کر گئی اور طلبہ کا اندراج 25 لاکھ تک پہنچ گیا۔ تاہم اس عددی ترقی کے باوجود تعلیم کا معیار، تحقیق کی عملی افادیت اور مارکیٹ کی ضرورت سے مطابقت کے سنگین مسائل برقرار ہیں۔ ملک میں ہر سال ساڑھے چار لاکھ گریجویٹس تیار ہونے کے باوجود تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کا تناسب 30 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ مالی وسائل کی قلت، گورننس کی پیچیدگیاں اور انڈسٹری سے کمزور ربط تعلیمی نظام کے لیے بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

