پاکستان
this is test category for pakistan
مزید خبریں

پاکستان میں ذیابیطس کے 30 سے 40 فیصد مریض ڈپریشن کا شکار: انڈس ہسپتال کے سیمینار میں طبی ماہرین کی تاکید
پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی بڑی تعداد ذہنی مسائل اور اعصابی تناؤ کا شکار ہو رہی ہے، جبکہ ملک میں نفسیاتی معالجین کی شدید کمی حالات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ کراچی میں انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے تحت منعقدہ نشست میں طبی ماہرین نے انکشاف کیا کہ ذیابیطس سے متاثرہ افراد عام آبادی کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ ذیابیطس اور دیگر دائمی بیماریوں کی دیکھ بھال میں ذہنی صحت کو لازمی جزو کے طور پر شامل کیا جائے۔ برطانیہ کی یونیورسٹی آف یارک کے اشتراک سے شروع کیے گئے ایک تحقیقی پروگرام 'ڈایا ڈیم' کے تحت غیر ماہر طبی عملے کے ذریعے کونسلنگ تھراپی کے ذریعے مریضوں کے علاج میں نمایاں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔

موسمیاتی تباہ کاریوں کا وہ ان دیکھا پہلو جو خاموشی سے انسان کی نفسیاتی صحت کو نگل رہا ہے
موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے نتیجے میں ہونے والے معاشی نقصانات اور جسمانی بیماریوں پر تو بات کی جاتی ہے، لیکن اس کے باعث پیدا ہونے والے خاموش نفسیاتی بحران کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمٹ چینج (آئی پی سی سی) اور عالمی ادارہ صحت کی رپورٹیں تصدیق کرتی ہیں کہ سیلاب، قحط اور شدید گرمی انسانی ذہن پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ پاکستان میں 2010 اور 2022 کے ہولناک سیلابوں سے متاثر ہونے والے کروڑوں افراد تاحال نفسیاتی صدمات اور شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ ملک میں ذہنی صحت کے معالجین اور علاج گاہوں کی شدید قلت کے باعث یہ صورتحال ایک خاموش لیکن سنگین المیے کا روپ دھار چکی ہے۔

زہریلی ہوا اور پھیلتی بیماریاں: پاکستان میں صاف ستھری فضا کے لیے فوری اور ہنگامی اقدامات کیوں ضروری ہیں؟
پاکستان میں ایک عام شخص روزانہ 20 ہزار سے زائد بار سانس لیتا ہے، لیکن کراچی، لاہور، فیصل آباد، حیدرآباد اور پشاور جیسے شہروں میں فضا میں موجود نظر نہ آنے والے زہریلے ذرات شہریوں کی صحت کو خاموشی سے تباہ کر رہے ہیں۔ فضائی آلودگی اور سردیوں کی سموگ اب محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین قومی صحت اور معاشی بحران بن چکی ہے۔ گاڑیوں کے زہریلے دھوئیں، صنعتی اخراج، اینٹوں کے بھٹوں اور کچرا جلانے کی وجہ سے ہوا میں خطرناک ذرات کی مقدار عالمی ادارہ صحت اور قومی معیارات سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایئر کوالٹی مانیٹرنگ، ٹرانسپورٹ میں اصلاحات اور کچرے کی تدفین کے جدید نظام کا ہنگامی قیام ناگزیر ہے۔

ٹک ٹاک تحائف اور لائیو سٹریمنگ: سوشل میڈیا کا وہ پوشیدہ راستہ جسے غیر قانونی سرمائے کی منتقلی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خصوصاً ٹک ٹاک کا 'لائیو گفٹنگ' فیچر جہاں ایک طرف مواد تخلیق کرنے والوں کی آمدن کا ذریعہ بن رہا ہے، وہیں دوسری جانب یہ غیر قانونی رقم کو سفید کرنے اور مالیاتی ضوابط سے بچنے کی ایک غیر محسوس راہ فراہم کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں اربوں ڈالر کا یہ ڈیجیٹل تحائف کا نظام کسی روایتی بینکنگ کنٹرول کے بغیر کام کرتا ہے، جہاں چھوٹی چھوٹی رقموں کی شکل میں لاکھوں روپے ایک سے دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں 50 ملین سے زائد سوشل میڈیا صارفین موجود ہیں، اینٹی منی لانڈرنگ کے پرانے قوانین اور پلیٹ فارمز کے مالیاتی ادارے نہ تسلیم کیے جانے کی وجہ سے اس 'مائیکرو لانڈرنگ' کا تدارک ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

فیصل آباد: بیرون ملک ملازمت کے نام پر لڑکیوں کو ورغلانے والا انسانی اسمگلنگ گینگ بے نقاب، مرکزی ملزم گرفتار
ایف آئی اے فیصل آباد زون نے تاندلیانوالہ میں ایک کارروائی کے دوران بیرون ملک پرکشش ملازمتوں کے بہانے پاکستانی لڑکیوں کو انسانی تسکر کا شکار بنانے والے منظم گینگ کے مرکزی ملزم اورنگزیب رانجھا کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گروہ لڑکیوں کو دبئی پہنچا کر ان کے پاسپورٹ اور سفری دستاویزات ضبط کر لیتا تھا اور انہیں زبردستی غیر قانونی کاموں پر مجبور کرتا تھا۔ آپریشن کے دوران متاثرہ لڑکیوں کے پاسپورٹ اور ڈیجیٹل شواہد برآمد کر کے ملزم کے خلاف پاسپورٹ ایکٹ اور پریوینشن آف ہیومن ٹریفکنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ پاکستان اور دبئی میں موجود دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

لاہور میں 'ہنی ٹریپ' گینگ بے نقاب: پولیس اہلکار ہی ماسٹر مائنڈ نکلا، دودھ فروش سے بھتہ وصولی پر مقدمہ درج
لاہور کے علاقے شاہدرہ ٹاؤن میں پولیس نے 'ہنی ٹریپ' کے ذریعے شہریوں کو اغوا، بلیک میل اور بھتہ خوری میں ملوث ایک منظم گینگ کا پردہ چاک کر دیا ہے، جس کا سرغنہ خود ایک پولیس اہلکار منظر نکلے۔ اس گروہ نے شیخوپورہ کے ایک محنت کش دودھ فروش منظور احمد کو لڑکی کے ذریعے جھانسہ دے کر بلایا، تشدد کا نشانہ بنایا اور اس سے گاہکوں سے اکٹھی کی گئی 1 لاکھ 8 ہزار روپے کی رقم چھین لی۔ ایس پی سٹی ڈویژن بلال احمد کی ہدایت پر انکوائری کے بعد ملزم نائیک محرر کو گرفتار کر کے مقدمہ انویسٹی گیشن کے سپرد کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی ضمانت ہو چکی ہے۔
مزید تازہ خبریں
مظفر گڑھ میں ڈارک ویب کے ذریعے بچوں کے استحصال کا بین الاقوامی نیٹ ورک بے نقاب، 10 بچے بازیابمظفر گڑھ میں ایک فرضی گیمنگ کلب کی آڑ میں بچوں کے جنسی استحصال اور ان کی ویڈیوز ڈارک ویب پر فروخت کرنے والے بین الاقوامی نیٹ ورک کو سیکیورٹی اداروں نے ناکام بنا دیا ہے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے امریکی ادارے این سی ایم ای سی کی فراہم کردہ معلومات پر پانچ گھنٹے طویل آپریشن کے بعد 10 بچوں کو بازیاب کروا کر دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ جرمن شہری سمیت چار دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ اس نیٹ ورک نے 6 سے 10 سال کی عمر کے نادار بچوں کو رقم کا لالچ دے کر بلیک میل کیا۔ واقعے کے بعد پنجاب کابینہ نے پہلی باقاعدہ 'چائلڈ پروٹیکشن پالیسی' کی منظوری دے دی ہے۔
کچے کے ڈاکوؤں کا 'ڈیجیٹل راج': ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا پر ہیرو کا روپ، زمین پر خوف اور اغوا کا سلسلہپنجاب، سندھ اور بلوچستان کے سرحدی کچے کے علاقوں میں سرگرم ڈاکوؤں نے اب اپنے روایتی طریقہ واردات کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کو بھی ہتھیار بنا لیا ہے۔ 10 ملین روپے کے انعام اور 28 مقدمات میں مطلوب شاہد لنڈ بلوچ جیسے مجرمان ٹک ٹاک، فیس بک اور یوٹیوب پر خود کو مظلوم اور ہیرو کے طور پر پیش کر کے ہزاروں فالوورز سمیٹ رہے ہیں۔ دوسری جانب ہنی ٹریپ، ڈکیتی اور تاوان کے لیے اغوا جیسے جرائم نے مقامی آبادی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ سیکیورٹی اداروں کے لیے دشوار گزار جغرافیہ کے ساتھ ساتھ ان ڈاکوؤں کا ڈیجیٹل وجود ایک نیا اور پیچیدہ چیلنج بن چکا ہے۔
مقامی حکومتوں کی بااختیاری کے بغیر بیوروکریسی میں اصلاحات ناممکن کیوں؟پاکستان میں انتظامی اصلاحات اور بیوروکریسی کی بہتری کے لیے دہائیوں سے مسلسل دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم عوام تک بنیادی سہولیات کی فراہمی کا بحران جوں کا توں ہے۔ اس ناکامی کی بنیادی وجہ طاقت اور اختیارات کا مرکز میں جمع رہنا ہے۔ جب تک مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ، مالیاتی خودمختاری اور انتظامی اختیارات فراہم نہیں کیے جاتے، تب تک سول سروس میں کسی بھی نوعیت کی اصلاحات نچلی سطح پر مثبت تبدیلی نہیں لا سکتیں۔ ایوب خان اور پرویز مشرف کے ادوار کی مقامی حکومتوں کی مثالوں سے لے کر بھارت، برازیل اور جرمنی کے عالمی ماڈلز تک، تمام حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پائیدار حکمرانی کا راستہ صرف بلدیاتی اداروں کی بحالی اور مظبوطی سے ہو کر گزرتا ہے۔
عدالتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن: پاکستان میں 'نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ' کا باقاعدہ افتتاحاسلام آباد میں پاکستان کے عدالتی اصلاحاتی سفر میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر 'نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ' کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا ہے۔ لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان نے یہ جدید سسٹم نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی)، سپریم کورٹ، وفاقی شرعی عدالت اور تمام ہائی کورٹس کے آئی ٹی ڈائریکٹوریٹس کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان یحیٰی آفریدی نے ڈیش بورڈ کا افتتاح کرتے ہوئے اسے شفافیت اور کارکردگی کی نگرانی کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اس موقع پر جسٹس محمد علی مظہر نے ڈیش بورڈ کے اہم خصوصیات اور حقیقی وقت میں عدالتی ڈیٹا کے تجزئیے کی صلاحیتوں کا تفصیل سے احاطہ کیا۔
عالمی معیار کے مطابق عدلیہ کی کارکردگی کی جانچ: چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کی زیرِ صدارت 'نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک' کی اصولی منظوریاسلام آباد میں چیف جسٹس آف پاکستان یحیٰی آفریدی کی صدارت میں نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی کے 61 ویں اجلاس میں 'نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک' کی اصولی منظوری دے دی گئی ہے۔ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے رول آف لا انڈیکس سے منسلک اس فریم ورک کا مقصد ملک بھر میں عدالتی کارکردگی، شفافیت اور انصاف تک عوام کی رسائی کو عالمی بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔ اجلاس میں صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، سیکرٹری قانون اور وکلا برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس فریم ورک کے تحت ہائی کورٹس سہ ماہی پیش رفت رپورٹس جمع کرائیں گی، جبکہ نیشنل آئی ٹی بورڈ کی معاونت سے ایک خصوصی ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی تیار کیا جائے گا۔
26ویں آئینی ترمیم: چیف جسٹس کے انتخاب سے آئینی بنچوں تک، نظامِ عدل میں کیا کچھ بدل گیا؟پاکستان کی پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے 26ویں آئینی ترمیمی بل 2024 میں کل 27 شقیں شامل ہیں، جن کا بنیادی محور ملک کے عدالتی نظام میں اہم اصلاحات نافذ کرنا ہے。 اس ترمیم کے تحت اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری اور چیف جسٹس کے انتخاب کے طریقہ کار میں پارلیمنٹ کے کردار کو بڑھایا گیا ہے。 جوڈیشل کمیشن کی ازسرِنو تشکیل کے ساتھ ساتھ 12 رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کو تین سینئر ترین ججوں میں سے نیا چیف جسٹس منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا ہے。 علاوہ ازیں، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں آئینی بنچوں کا قیام، ازخود نوٹس کے اختیارات کی ان بنچوں کو منتقلی، صاف ستھرے ماحول کو بنیادی حق قرار دینا اور الیکشن کمیشن سے متعلق شقیں بھی اس ترمیم کا حصہ ہیں。
پاکستان کے عدالتی نظام میں منظم کرپشن اور آئینی ترمیمات کے اثرات: ایچ آر سی پی اور ایف آئی ڈی ایچ کی نئی رپورٹپاکستان میں ہیومن رائٹس کمیشن (ایچ آر سی پی) اور انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس (ایف آئی ڈی ایچ) کی ایک نئی مشترکہ تحقیقی رپورٹ میں عدالتی نظام میں نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ عدلیہ تک پھیلی منظم کرپشن کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ 32 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رشوت ستانی، اقربا پروری اور انتظامی کمزوریوں نے منصفانہ ٹرائل کے حق کو شدید متاثر کیا ہے، جس کا سب سے زیادہ خمیازہ غریب طبقات اور اقلیتوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیمات کو عدالتی خودمختاری کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے ان کی منسوخی، ججوں کے اثاثے عام کرنے اور اصلاحات کے لیے عالمی برادری کی شمولیت کی سفارش کی گئی ہے۔
مقامی حکومتیں: صوبائی دارالحکومتوں میں اٹکی ہوئی جمہوریت اور اختیارات کی نچلی سطح پر عدم منتقلیپاکستان میں گراؤنڈ لیول پر گورننس کی بہتری اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کا سوال دہائیوں سے زیرِ بحث ہے۔ 2010ء میں منظور کی جانے والی اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے وفاق سے صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کا ایک تاریخی قدم اٹھایا گیا، لیکن یہ عمل صوبائی دارالحکومتوں پر جا کر رک گیا۔ صوبائی حکومتیں بااختیار مقامی حکومتوں کے قیام، آئینی تسلسل اور فنڈز کی شفاف منتقلی سے گریزاں رہی ہیں۔ کراچی اور لاہور جیسے تیزی سے پھیلتے بڑے شہروں سے لے کر دیہی علاقوں تک، بلدیاتی اداروں کی غیر موجودگی اور مالیاتی عدم خودمختاری نے شہری مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ جب تک مقامی حکومتوں کو ایک مستقل اور بااختیار آئینی تیسرے درجے کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا، جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہونا ممکن نہیں۔
بلوچستان کا درینہ مسئلہ: فوجی طاقت، معاشی محرومیاں اور ریاستی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہموسیٰ خیل میں شہریوں کے المناک قتل عام کے بعد بلوچستان کے سیاسی اور سیکیورٹی بحران پر ایک بار پھر بحث چھڑ چکی ہے۔ پچھلی دو دہائیوں سے جاری اس شورش کا آغاز جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں فوجی طاقت کے استعمال سے ہوا تھا، جس کے اثرات آج بھی پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بلوچستان میں صرف بلوچ ہی نہیں بلکہ پختون، ہزارہ، پنجابی اور سرائیکی بھی آباد ہیں، جبکہ خود بلوچ معاشرہ مکران سے لے کر بگٹی اور مری علاقوں تک متنوع سیاسی و سماجی شناخت رکھتا ہے۔ گوادر میں ماہی گیروں کی معاشی بے دخلی، سی پیک پر تحفظات، لاپتا افراد اور پرامن بلوچ نوجوانوں کو دیوار سے لگانے کے اقدامات نے اس قضیے کو مزید الجھا دیا ہے۔
