تازہ خبریں
کینسر کا علاج اور جسمانی آزمائش: کیموتھراپی کے اثرات سے معاشی دباؤ تک مریض کن مراحل سے گزرتے ہیں؟مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی: ایرانی وزیر خارجہ کا فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی ہم منصب سے رابطہسوئے بغیر دماغ کو نیند کا احساس دلانا ممکن: امریکی سائنسدانوں کا چوہوں پر کامیاب تجربہایپل کا پہلا فولڈ ایبل ’آئی فون ڈوو‘ منظرِ عام پر: 2 ہزار ڈالرز کی قیمت میں 7.6 انچ کی سکرین اور A20 پرو چپتنگ نظر روایات، شدت پسندی اور ریاستی بے حسی: قبائلی اضلاع کی بیٹیوں کا کھیل کے میدان تک پہنچنے کا دشوار سفرمیاں چنوں سے برمنگھم تک: کٹھن راستوں اور کہنی کی چوٹ کو شکست دے کر 90 میٹر کا سنگِ میل عبور کرنے والے ارشد ندیم کی کہانیہمالیہ کے سبزہ زاروں سے رتی گلی تک: گرمی کی حبس سے نانگا پربت، دیوسائی اور وادیِ نیلم کا سحر انگیز سفرعالمی بانڈ مارکیٹس میں شدید ہیجان: امریکی قرضوں کے بوجھ اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے معاشی اثراتنائن الیون کے 25 سال: تین زندگیوں کی داستان اور کھوئے ہوئے پیاروں کی نہ بھولنے والی یادیںپاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کا بدلتا روپ: من گھڑت الزامات، قانون کا استعمال اور اکثریت کا بڑھتا خوفتعزیراتِ ہند سے تعزیراتِ پاکستان تک: توہینِ مذہب کے قوانین کا ارتقا اور سیاسی و سماجی اثراتتین دہائیوں میں کیسز کی تسلسل سے آمد اور سیاسی استعمال: توہین کے قوانین کی سختیاں اور بڑھتے سوالاتاسمارٹ فون نظروں سے اوجھل رکھیں: ذہنی تناؤ اور نیند کی خرابی سے بچاؤ کے لیے ماہرینِ نفسیات کی ہدایاتکیا سن اسکرین واقعی جلدی کینسر کا سبب بنتی ہے؟ سوشل میڈیا کے مقبول دعووں کی سائنسی حقیقتٹک ٹاک تحائف اور لائیو سٹریمنگ: سوشل میڈیا کا وہ پوشیدہ راستہ جسے غیر قانونی سرمائے کی منتقلی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہےمقامی حکومتیں: صوبائی دارالحکومتوں میں اٹکی ہوئی جمہوریت اور اختیارات کی نچلی سطح پر عدم منتقلیمرکز اور حاشیے کی کشمکش: استعماری طرزِ حکمرانی جو پاکستان کو پیچھے دھکیل رہا ہےموروثی سیاست اور ’نیپو بیبیز‘: پاکستان سمیت دنیا بھر میں سیاسی خاندانوں کا تسلط اور جمہوریت کے لیے درپیش چیلنجزہرات کا روایتی شیشہ: مٹی کی بھٹیوں، صحرائی پودے اور پھونک سے ڈھلتے صدیوں پرانے شاہکارپاک ایران راستوں پر رکاوٹیں: کیا 'لاپس لازولی راہداری' افغانستان کو متبادل تجارتی راستہ فراہم کر سکتی ہے؟ہرات کی 1800 سالہ قدیم شیشہ سازی کی صنعت کا آخری چراغ: ایک شیشہ گر اور دم توڑتا ورثہقوش تیپہ کینال پروجیکٹ: آمو دریا کا رخ موڑنے کا افغان منصوبہ وسطی ایشیا کے لیے نیا آبی بحران؟پاک افغان تجارت میں بڑا بریک ڈاون: 53 فیصد کمی اور سرحد پار معیشت کا خاموش بحرانباری اسٹوڈیوز: لاہور کے فلمی عروج کی ایک بکھرتی ہوئی یادکیا پنجابی سنیما پاکستان میں فلمی صنعت کی بحالی کی چابی ہے؟پردے کے پیچھے چھپا لالی وڈ کا معمار: اقبال رضوی کی ساٹھ سالہ فلمی داستانخالی ہال، مہنگے ٹکٹ اور فلموں کا قحط: پاکستانی سنیما کو درپیش بقا کا بحرانخاموش ہوتے پردے اور خالی سینما ہال: کیا پاکستانی فلمی صنعت اپنی بقا کی جنگ ہار رہی ہے؟
LIVE
US Dollar 278.44 PKREuro 317.69 PKRBritish Pound 368.77 PKRUAE Dirham 75.82 PKRSaudi Riyal 74.25 PKRKuwaiti Dinar 903.05 PKRQatari Riyal 76.49 PKRBahraini Dinar 740.53 PKROmani Rial 724.15 PKRChinese Yuan 41.00 PKRJapanese Yen 1.72 PKRIndian Rupee 2.94 PKRAfghan Afghani 4.39 PKRMalaysian Ringgit 68.41 PKRSingapore Dollar 215.27 PKRTurkish Lira 5.99 PKRCanadian Dollar 196.16 PKRAustralian Dollar 191.83 PKRSwiss Franc 344.45 PKRIslamabad 🌧 26°C Smoky hazeRawalpindi 🌧 29°C Smoky hazeLahore 🌧 30°C Smoky hazeKarachi ⛅ 27°C Partly CloudyQuetta ☀ 22°C ClearPeshawar 🌧 34°C Smoky hazeMultan 🌧 35°C Smoky hazeFaisalabad 🌧 32°C Smoky hazeGujranwala 🌧 30°C Smoky hazeSialkot 🌧 29°C Smoky hazeHyderabad ☀ 28°C ClearSukkur ☀ 34°C ClearBannu 🌧 36°C Smoky hazeDera Ismail Khan 🌧 37°C Smoky hazeAbbottabad 🌧 21°C Smoky hazeMansehra 🌧 21°C Smoky hazeChitral ☀ 16°C ClearMingora / Swat 🌧 19°C Smoky hazeKalam ☀ 8°C ClearMalam Jabba 🌧 19°C Smoky hazeNathia Gali 🌧 21°C Smoky hazeMurree 🌧 26°C Smoky hazeGilgit ☀ 19°C ClearSkardu ☀ 15°C ClearHunza ☀ 12°C ClearChilas ☀ 19°C ClearAstore ☀ 12°C ClearDir ☀ 14°C ClearKumrat Valley ☀ 8°C ClearNaran ⛅ 10°C Partly CloudyKaghan ⛅ 14°C Partly CloudyMuzaffarabad ⛅ 14°C Partly CloudyMirpur 🌧 31°C Patchy rain nearbyRawalakot 🌧 22°C Smoky haze

پاکستان

this is test category for pakistan

مزید تازہ خبریں

Government and law enforcement officials holding a press conference regarding the Muzaffargarh child exploitation operation.مظفر گڑھ میں ڈارک ویب کے ذریعے بچوں کے استحصال کا بین الاقوامی نیٹ ورک بے نقاب، 10 بچے بازیاب

مظفر گڑھ میں ایک فرضی گیمنگ کلب کی آڑ میں بچوں کے جنسی استحصال اور ان کی ویڈیوز ڈارک ویب پر فروخت کرنے والے بین الاقوامی نیٹ ورک کو سیکیورٹی اداروں نے ناکام بنا دیا ہے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے امریکی ادارے این سی ایم ای سی کی فراہم کردہ معلومات پر پانچ گھنٹے طویل آپریشن کے بعد 10 بچوں کو بازیاب کروا کر دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ جرمن شہری سمیت چار دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ اس نیٹ ورک نے 6 سے 10 سال کی عمر کے نادار بچوں کو رقم کا لالچ دے کر بلیک میل کیا۔ واقعے کے بعد پنجاب کابینہ نے پہلی باقاعدہ 'چائلڈ پروٹیکشن پالیسی' کی منظوری دے دی ہے۔

An elderly villager standing near a riverbank in Katcha while armed bandits move on a boat and near sugarcane fields.کچے کے ڈاکوؤں کا 'ڈیجیٹل راج': ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا پر ہیرو کا روپ، زمین پر خوف اور اغوا کا سلسلہ

پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے سرحدی کچے کے علاقوں میں سرگرم ڈاکوؤں نے اب اپنے روایتی طریقہ واردات کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کو بھی ہتھیار بنا لیا ہے۔ 10 ملین روپے کے انعام اور 28 مقدمات میں مطلوب شاہد لنڈ بلوچ جیسے مجرمان ٹک ٹاک، فیس بک اور یوٹیوب پر خود کو مظلوم اور ہیرو کے طور پر پیش کر کے ہزاروں فالوورز سمیٹ رہے ہیں۔ دوسری جانب ہنی ٹریپ، ڈکیتی اور تاوان کے لیے اغوا جیسے جرائم نے مقامی آبادی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ سیکیورٹی اداروں کے لیے دشوار گزار جغرافیہ کے ساتھ ساتھ ان ڈاکوؤں کا ڈیجیٹل وجود ایک نیا اور پیچیدہ چیلنج بن چکا ہے۔

Vector graphic showing hands holding citizen icons, casting a ballot paper, and holding scales of justice above a Pakistani government building.مقامی حکومتوں کی بااختیاری کے بغیر بیوروکریسی میں اصلاحات ناممکن کیوں؟

پاکستان میں انتظامی اصلاحات اور بیوروکریسی کی بہتری کے لیے دہائیوں سے مسلسل دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم عوام تک بنیادی سہولیات کی فراہمی کا بحران جوں کا توں ہے۔ اس ناکامی کی بنیادی وجہ طاقت اور اختیارات کا مرکز میں جمع رہنا ہے۔ جب تک مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ، مالیاتی خودمختاری اور انتظامی اختیارات فراہم نہیں کیے جاتے، تب تک سول سروس میں کسی بھی نوعیت کی اصلاحات نچلی سطح پر مثبت تبدیلی نہیں لا سکتیں۔ ایوب خان اور پرویز مشرف کے ادوار کی مقامی حکومتوں کی مثالوں سے لے کر بھارت، برازیل اور جرمنی کے عالمی ماڈلز تک، تمام حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پائیدار حکمرانی کا راستہ صرف بلدیاتی اداروں کی بحالی اور مظبوطی سے ہو کر گزرتا ہے۔

Justice Muhammad Ali Mazhar addressing the audience at the launch ceremony of the National Judicial Analytics Dashboard in Islamabad.عدالتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن: پاکستان میں 'نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ' کا باقاعدہ افتتاح

اسلام آباد میں پاکستان کے عدالتی اصلاحاتی سفر میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر 'نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ' کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا ہے۔ لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان نے یہ جدید سسٹم نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی)، سپریم کورٹ، وفاقی شرعی عدالت اور تمام ہائی کورٹس کے آئی ٹی ڈائریکٹوریٹس کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان یحیٰی آفریدی نے ڈیش بورڈ کا افتتاح کرتے ہوئے اسے شفافیت اور کارکردگی کی نگرانی کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اس موقع پر جسٹس محمد علی مظہر نے ڈیش بورڈ کے اہم خصوصیات اور حقیقی وقت میں عدالتی ڈیٹا کے تجزئیے کی صلاحیتوں کا تفصیل سے احاطہ کیا۔

Court administrative staff working on computers with digital performance dashboards inside a Pakistani courthouse.عالمی معیار کے مطابق عدلیہ کی کارکردگی کی جانچ: چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کی زیرِ صدارت 'نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک' کی اصولی منظوری

اسلام آباد میں چیف جسٹس آف پاکستان یحیٰی آفریدی کی صدارت میں نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی کے 61 ویں اجلاس میں 'نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک' کی اصولی منظوری دے دی گئی ہے۔ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے رول آف لا انڈیکس سے منسلک اس فریم ورک کا مقصد ملک بھر میں عدالتی کارکردگی، شفافیت اور انصاف تک عوام کی رسائی کو عالمی بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔ اجلاس میں صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، سیکرٹری قانون اور وکلا برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس فریم ورک کے تحت ہائی کورٹس سہ ماہی پیش رفت رپورٹس جمع کرائیں گی، جبکہ نیشنل آئی ٹی بورڈ کی معاونت سے ایک خصوصی ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی تیار کیا جائے گا۔

Judges seated on the bench listening to legal arguments from lawyers inside a Pakistan courtroom.26ویں آئینی ترمیم: چیف جسٹس کے انتخاب سے آئینی بنچوں تک، نظامِ عدل میں کیا کچھ بدل گیا؟

پاکستان کی پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے 26ویں آئینی ترمیمی بل 2024 میں کل 27 شقیں شامل ہیں، جن کا بنیادی محور ملک کے عدالتی نظام میں اہم اصلاحات نافذ کرنا ہے。 اس ترمیم کے تحت اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری اور چیف جسٹس کے انتخاب کے طریقہ کار میں پارلیمنٹ کے کردار کو بڑھایا گیا ہے。 جوڈیشل کمیشن کی ازسرِنو تشکیل کے ساتھ ساتھ 12 رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کو تین سینئر ترین ججوں میں سے نیا چیف جسٹس منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا ہے。 علاوہ ازیں، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں آئینی بنچوں کا قیام، ازخود نوٹس کے اختیارات کی ان بنچوں کو منتقلی، صاف ستھرے ماحول کو بنیادی حق قرار دینا اور الیکشن کمیشن سے متعلق شقیں بھی اس ترمیم کا حصہ ہیں。

Lawyers consulting with clients and citizens holding case files inside a crowded court corridor in Pakistan.پاکستان کے عدالتی نظام میں منظم کرپشن اور آئینی ترمیمات کے اثرات: ایچ آر سی پی اور ایف آئی ڈی ایچ کی نئی رپورٹ

پاکستان میں ہیومن رائٹس کمیشن (ایچ آر سی پی) اور انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس (ایف آئی ڈی ایچ) کی ایک نئی مشترکہ تحقیقی رپورٹ میں عدالتی نظام میں نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ عدلیہ تک پھیلی منظم کرپشن کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ 32 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رشوت ستانی، اقربا پروری اور انتظامی کمزوریوں نے منصفانہ ٹرائل کے حق کو شدید متاثر کیا ہے، جس کا سب سے زیادہ خمیازہ غریب طبقات اور اقلیتوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیمات کو عدالتی خودمختاری کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے ان کی منسوخی، ججوں کے اثاثے عام کرنے اور اصلاحات کے لیے عالمی برادری کی شمولیت کی سفارش کی گئی ہے۔

Citizens walking past a Town Municipal Administration Office in a congested urban neighborhood of Lahore.مقامی حکومتیں: صوبائی دارالحکومتوں میں اٹکی ہوئی جمہوریت اور اختیارات کی نچلی سطح پر عدم منتقلی

پاکستان میں گراؤنڈ لیول پر گورننس کی بہتری اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کا سوال دہائیوں سے زیرِ بحث ہے۔ 2010ء میں منظور کی جانے والی اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے وفاق سے صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کا ایک تاریخی قدم اٹھایا گیا، لیکن یہ عمل صوبائی دارالحکومتوں پر جا کر رک گیا۔ صوبائی حکومتیں بااختیار مقامی حکومتوں کے قیام، آئینی تسلسل اور فنڈز کی شفاف منتقلی سے گریزاں رہی ہیں۔ کراچی اور لاہور جیسے تیزی سے پھیلتے بڑے شہروں سے لے کر دیہی علاقوں تک، بلدیاتی اداروں کی غیر موجودگی اور مالیاتی عدم خودمختاری نے شہری مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ جب تک مقامی حکومتوں کو ایک مستقل اور بااختیار آئینی تیسرے درجے کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا، جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہونا ممکن نہیں۔

Local men and women walking along a roadside market in Balochistan with mountains and a highway bridge in the background.بلوچستان کا درینہ مسئلہ: فوجی طاقت، معاشی محرومیاں اور ریاستی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ

موسیٰ خیل میں شہریوں کے المناک قتل عام کے بعد بلوچستان کے سیاسی اور سیکیورٹی بحران پر ایک بار پھر بحث چھڑ چکی ہے۔ پچھلی دو دہائیوں سے جاری اس شورش کا آغاز جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں فوجی طاقت کے استعمال سے ہوا تھا، جس کے اثرات آج بھی پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بلوچستان میں صرف بلوچ ہی نہیں بلکہ پختون، ہزارہ، پنجابی اور سرائیکی بھی آباد ہیں، جبکہ خود بلوچ معاشرہ مکران سے لے کر بگٹی اور مری علاقوں تک متنوع سیاسی و سماجی شناخت رکھتا ہے۔ گوادر میں ماہی گیروں کی معاشی بے دخلی، سی پیک پر تحفظات، لاپتا افراد اور پرامن بلوچ نوجوانوں کو دیوار سے لگانے کے اقدامات نے اس قضیے کو مزید الجھا دیا ہے۔