Dharmendra Pradhan at a public event amid Cockroach Janta Party protests over NEET paper leak

بھارت میں طلبہ تحریک کی فتح: پرچہ لیک تنازع پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی

نئی دہلی کے جنتر منتر پر ہفتوں سے جاری طلبہ کے احتجاج کے آگے بھارتی حکومت کو بالآخر جھکنا پڑا اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے ہفتے کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ پردھان نے استعفیٰ نامہ وزیراعظم نریندر مودی کو بھجوایا اور خود سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی اس کا اعلان کیا۔

اپنے پیغام میں پردھان نے لکھا کہ جنتر منتر اور ملک بھر میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا جا رہا ہے تاکہ ملک دشمن عناصر اس کا فائدہ نہ اٹھا سکیں، ملکی اتحاد برقرار رہے اور کسی ایک طالب علم کا مستقبل بھی قانونی پیچیدگیوں کا شکار نہ ہو۔ انہوں نے ملک کے نوجوانوں کے جذبات اور ان کے جائز مطالبات کا احترام کرنے کی بات بھی کہی۔

واضح رہے کہ استعفے کا اعلان اس وقت سامنے آیا جب دہلی پولیس جنتر منتر پر موجود مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کر رہی تھی، جبکہ مظاہرین رہنماؤں کی وفاقی وزراء کے ساتھ بات چیت کا ایک اور دور چند گھنٹوں بعد طے تھا۔ اس سے ایک روز قبل جمعے کو بھی حکومت اور مظاہرین کے مابین مذاکرات ہوچکے تھے جس میں حکومتی جانب سے ہفتے کی سہ پہر تک جواب دینے کی مہلت مانگی گئی تھی۔ بی جے پی صدر جے پی نڈا اور مرکزی وزیر جتیندر سنگھ کی سربراہی میں حکومتی وفد اس سے قبل مظاہرین کا استعفے کا مطالبہ مسترد کرچکا تھا۔

یہ پورا معاملہ بھارت کے میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ (NEET) کا پرچہ لیک ہونے اور سی بی ایس ای کی آن اسکرین مارکنگ میں مبینہ بے ضابطگیوں سے شروع ہوا تھا۔ مئی میں بھارتی چیف جسٹس سوریہ کانت کے ایک بیان پر ردعمل کے طور پر، جس میں انہوں نے بے روزگار نوجوانوں اور سوشل میڈیا صارفین کا موازنہ کاکروچوں اور پرجیویوں سے کیا تھا، سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ مہم شروع ہوئی جسے “کاکروچ جنتا پارٹی” کا نام دیا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ آن لائن مہم زمینی تحریک میں بدل گئی اور 6 جون سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر باقاعدہ دھرنا شروع ہوگیا، جس میں اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا سمیت کئی طلبہ تنظیمیں بھی شریک ہوگئیں۔ مظاہرین کا بنیادی مطالبہ وزیر تعلیم پردھان کا استعفیٰ اور امتحانی نظام میں جامع اصلاحات تھا۔

تحریک کو اس وقت مزید تقویت ملی جب تعلیمی و ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک 28 جون کو غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔ لداخ سے تعلق رکھنے والے وانگچک، جو پہلے ہی اپنی سماجی سرگرمیوں کے باعث بھارت بھر میں معروف ہیں، کی بھوک ہڑتال قریب ایک ماہ تک جاری رہی اور اس نے تحریک کو ملکی اور غیر ملکی میڈیا کی خاصی توجہ دلوائی۔

مظاہرین کے دیگر مطالبات میں تحریک سے متعلق درج مقدمات کا خاتمہ اور پرچہ لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہلخانہ کے لیے مالی معاونت بھی شامل ہے، جن پر تاحال کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔