Pakistan reiterates support for Saudi Arabia amid rising Middle East tensions.

پاکستان کا مشرق وسطیٰ تنازع میں سعودی عرب کو شامل کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار

پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب کو تنازع کا حصہ بنانے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے برادر ملک کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں کی سخت مذمت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے یا دھمکیاں دینے سے نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی تجارت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ترجمان نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیں۔

افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے طاہر اندرابی نے کہا کہ افغان طالبان کی حکومت دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کر رہی ہے اور افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے اب بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد گروہوں کی حمایت سے علاقائی امن کو خطرات لاحق ہیں اور دہشت گردی کے نتیجے میں ہزاروں پاکستانی شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

ترجمان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردوں کی مبینہ پشت پناہی کے معاملے پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔

بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ ایران کے وزیر داخلہ نے حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

طاہر اندرابی کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں مشرق وسطیٰ میں امن، کشیدگی میں کمی اور سفارتی کوششوں کو فروغ دینے پر زور دیا گیا، جبکہ روس اور کینیڈا کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور سکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔