Indian Prime Minister Narendra Modi alongside a large Gen Z student protest in New Delhi.

بھارت میں نوجوانوں کا احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت کو نئے سیاسی چیلنج کا سامنا

بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں جاری احتجاجی تحریک نے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا ہے، جہاں تعلیمی نظام، بے روزگاری اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف مظاہروں نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ احتجاج مودی حکومت کی تیسری مدت کے دوران اب تک کے بڑے عوامی چیلنجز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نوجوانوں کی جانب سے شروع ہونے والی تحریک کو تعلیمی نظام پر عدم اعتماد، روزگار کے محدود مواقع اور امتحانی اسکینڈلز کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی نے تقویت دی ہے۔

مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کی، جہاں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جھڑپوں میں کم از کم 180 افراد زخمی ہوئے، جن میں 118 پولیس اہلکار اور 60 مظاہرین شامل ہیں، جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے شہر کے بعض حساس علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ بھی معطل کر دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق مظاہرین کا اہم مطالبہ وفاقی وزیر تعلیم کے استعفے کا ہے۔ احتجاجی تحریک کی قیادت نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے اور اسے جنریشن زی کی ایک نمایاں آواز قرار دیا جا رہا ہے۔

جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق یہ تحریک ابتدا میں سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ مہم کے طور پر شروع ہوئی، تاہم بعد ازاں یہ منظم احتجاجی تحریک میں تبدیل ہوگئی، جو نوجوانوں میں روزگار، تعلیم اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق بڑھتے ہوئے عدم اطمینان کی عکاسی کرتی ہے۔